بھٹکل 15/نومبر (ایس او نیوز) ہلیال حلقے سے رکن اسمبلی اور سابق وزیر آر وی دیشپانڈے اس وقت دھارواڑ، شمالی کینرا اور اڈپی ضلع کے دورے پر ہیں۔ جمعہ کے دن بھٹکل پہنچنے پر انہوں نے کانگریسی لیڈروں اورکارکنان کے ساتھ ایک ہوٹل میں ملاقات کی۔
سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کسی کے پاس اقتدار ہے تو کل وہ ہاتھ سے چلا بھی جاتا ہے۔عہدے اور منصب دائمی نہیں ہوتے۔ لیکن پارٹی کے ساتھ جڑے رہنا اور اسے استحکام فراہم کرنے کے لئے مصروف رہنا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ضلع شمالی کینرا میں پارٹی کے پا س اچھے قائدین اور کارکنان ہیں۔ مگر پارٹی کو مضبوط کرنے کا کام مزید بہتر انداز میں ہونا چاہیے۔بوتھ کمیٹیاں بناکر یونہی چھوڑدینا کافی نہیں ہے۔ اسے متحرک اور فعال بھی ہونا چاہیے۔اس ضمن میں بلاک سطح کے عہدیداروں، سابق اراکین اسمبلی اور کارکنان کوچاہیے کہ وہ بوتھ کمیٹی میں شامل افراد کو ساتھ لے کر انہیں پارٹی کے لئے کام کرنے کی سمت میں ان کی رہنمائی کریں۔اسی انداز میں کام کریں گے تو پارٹی مضبوط ہوسکتی ہے۔
دیشپانڈے نے کہا کہ مخلوط حکومت کو گرانے کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ ہونے کی بات اب جگ ظاہر ہوچکی ہے۔اس وقت کے اسپیکر نے باغی اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا جو حکم صادر کیا تھا اسی کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔اتنے بڑے پیمانے پر اراکین اسمبلی کا نااہل قرار پانا میری دانست میں پہلی بار ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ امسال برسات اور سیلاب کی وجہ سے جن لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ان کو راحت پہنچانے اور ان کی بازآباد کاری کے لئے فنڈ فراہم کرنے میں بی جے پی کے اقتدار والی ریاستی حکومت ناکام رہی ہے۔انہوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھٹکل کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے اتنے بڑے پیمانے پر تعمیری و ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے والے رکن اسمبلی منکال وئیدیا کو عوام نے انتخاب میں کس طرح بھلا دیا یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔
اس موقع پر ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر، سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا، جے ڈی نائک، مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر ایس ایم پرویز،کانگریس اقلیتی مورچہ کے ضلع صدر عبدالمجید، بلاک کانگریس صدر سنتوش نائک کے علاوہ کانگریسی لیڈروں اور کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی۔
معلوم ہو اہے کہ بھٹکل میں پارٹی کارکنان اور لیڈروں کے ساتھ ملاقات سے ایک دن قبل آر وی دیشپانڈے نے کمٹہ میں اسی قسم کی میٹنگ کی تھی۔ پھر وہاں سے شام کو مرڈیشور پہنچ کر آرام کیاتھا اور صبح میں مرڈیشور میں اسی طرح کی ایک میٹنگ منعقد کرکے پارٹی کارکنان اور لیڈروں سے ملاقات کرکے وہاں پرکانگریس پارٹی کے تعلق سے حالات کا جائزہ لیا تھا۔